سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (کَیس)، لاہور نے ۲۳ ستمبر ۲۰۲۶ کو “پاکستان، بھارت تعلقات: ڈیٹرنس، مسابقت اور استحکام کے امکانات” کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد کیا۔ سیمینار میں ماہرینِ تعلیم، دانشوروں، سینئر افسران اور مختلف شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔ کَیس لاہور کے سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ، امیر عبداللہ خان نے افتتاحی خطاب کیا۔
سابق پاکستانی ہائی کمشنر برائے بھارت، سفیر عبدالباسط (ریٹائرڈ) نے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے سفر کا جائزہ لیتے ہوئے ۲۰۰۴ء سے ۲۰۰۸ء کے دوران ہونے والی مثبت پیش رفت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں، ۲۰۱۶ء کے اُڑی واقعے، ۲۰۱۹ء کے پلوامہ بحران اور ۲۰۲۵ء کے پہلگام حملہ کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو شدید متاثر کیا۔ ان کے مطابق بھارت کی پاکستان سے عدمِ رابطہ کی پالیسی اس کے بڑھتے ہوئے معاشی اعتماد اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اندرونی سیاسی مفادات سے بھی جڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ۲۰۱۹ء میں آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کی منسوخی کے بعد اس پالیسی نے کشمیر پر بھارت کی گرفت مزید مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا، پاکستان اور بھارت کے درمیان حقیقی معمول کے تعلقات قائم ہونا مشکل ہے۔ ان کے مطابق باقی تنازعات کے حل کے لیے دونوں جانب سے یکساں طور پر سفارتی کوششیں ضروری ہیں، جبکہ بھارت کے ساتھ معاملات میں واضح اور جامع حکمتِ عملی اپنانا بھی ناگزیر ہے۔
سفیر ضمیر اکرم (ریٹائرڈ)، مشیر ایس پی ڈی، نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی کشیدگی کی جڑیں صرف مسئلہ کشمیر تک محدود نہیں بلکہ خطے میں بھارت کے بالادستی کے رجحان سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق نئی دہلی اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ برابری کے تعلقات قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتا ہے۔ انہوں نے بھارتی فوجی حکمتِ عملی میں ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کولڈ اسٹارٹ سے لے کر نئی “ڈائنامک رسپانس اسٹریٹیجی” تک کا جائزہ پیش کیا۔ ان کے مطابق اس حکمتِ عملی کا مقصد ایٹمی حد سے نیچے محدود پیمانے کی روایتی جنگ کے لیے گنجائش پیدا کرنا ہے، جبکہ اس کے ساتھ بالواسطہ کارروائیوں اور پراکسی حمایت جیسے طریقے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کے تعطل کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ۲۰۲۵ء میں براہموس جیسے ہتھیاروں کے استعمال نے، جو روایتی اور ایٹمی دونوں صلاحیتوں کے حامل ہو سکتے ہیں، ایٹمی جنگ کی حد کو مزید قریب کر دیا۔ ان کے مطابق پاکستان کے محتاط اور متوازن ردِعمل نے کشیدگی بڑھائے بغیر مؤثر ڈیٹرنس برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر سلمیٰ ملک، ایسوسی ایٹ پروفیسر، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد، نے اپنی گفتگو کا آغاز حالیہ عرصے میں بحیرۂ عرب میں بھارتی اور پاکستانی بحری جہازوں کے درمیان پیش آنے والے تصادم سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایک معمولی واقعہ بھی دوبارہ بڑے بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے ۲۰۲۵ء کے بعد پیدا ہونے والی “نئی صورتِ حال” کا جائزہ لیتے ہوئے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق مستقل ثالثی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرنے، ممکنہ “آپریشن سندور ۲.۰”، کشمیر کے حل طلب مسئلے، بھارت میں مسلم اقلیت کے بگڑتے ہوئے حالات اور بحران سے نمٹنے کے کمزور ہوتے نظام کو خطے کو لاحق خطرات کے اہم عوامل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی ڈیٹرنس کسی منصوبہ بند جنگ کو روک سکتی ہے، لیکن اچانک یا حادثاتی جنگ کے خطرے کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتی۔
کَیس لاہور کے صدر، ایئر مارشل عاصم سلیمان (ریٹائرڈ)، نے اختتامی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے رویے میں ایٹمی حد سے نیچے محدود جنگ کے حوالے سے ایک واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے، جسے انہوں نے خطے میں بھارت کے بالادستی کے رجحان اور پاکستان کے بارے میں اس کے سیاسی نقطۂ نظر پر ہندوتوا کے اثرات سے جوڑا۔ ان کے مطابق بھارت کی جانب سے مذاکرات سے مسلسل گریز، “آپریشن سندور ۲.۰” سے متعلق بیانات اور اس مؤقف کے باعث کہ دہشت گردی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے، براہِ راست رابطے کے امکانات محدود ہوئے ہیں۔ انہوں نے کشمیر اور سندھ طاس معاہدے کو اہم ممکنہ کشیدگی کے مراکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی بنیادی تنازعات حل نہیں کر سکتی بلکہ اس سے دونوں ملکوں کے معاشی اور اسٹریٹجک اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا جس میں سیاسی استحکام، مضبوط معیشت، ٹیکنالوجی میں ترقی، روایتی اور اسٹریٹجک ڈیٹرنس، سفارت کاری اور ذمہ دارانہ بحران سے نمٹنے کے طریقۂ کار کو شامل کیا جائے، تاکہ کشیدگی کو قابو میں رکھا جا سکے اور خطے کے استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد ملے۔
سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب اور باہمی گفتگو کا سیشن ہوا، جس میں شرکا نے دفاعی ڈیٹرنس کو جدید بنانے، بحران سے نمٹنے کے مؤثر نظام، اور بھارت کے ساتھ مسلسل پیچیدہ ہوتے تعلقات کو سنبھالنے کے لیے پاکستان کے سامنے موجود سفارتی اور قانونی راستوں پر تبادلۂ خیال کیا۔
