چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد کے سیکٹر E-12 کا دورہ کیا اور سیکٹر میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کی مجموعی صورتحال اور پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر چیئرمین سی ڈی اے کو تقریباً 750 کنال حاصل شدہ اراضی واگزار کرانے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، جو طویل عرصے سے غیر مجاز افراد کے قبضے میں تھی اور سیکٹر E-12 کی منصوبہ بندی کے مطابق ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ تھی۔
750 کنال اراضی کی واگزاری سی ڈی اے کی جانب سے سیکٹر کی ترقی میں حائل دیرینہ رکاوٹوں کو دور کرنے اور حاصل شدہ اراضی کو اس کے مقررہ مقصد کے لیے بحال کرنے کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ واگزار کرائی گئی اراضی سی ڈی اے کے منظور شدہ منصوبوں کے مطابق ترقیاتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے اور سیکٹر E-12 کی منصوبہ بندی کے تحت توسیع و ترقی کو عملی جامہ پہنانے میں معاون ثابت ہوگی۔
وفاقی وزیر برائے داخلہ سید محسن رضا نقوی کی ہدایت اور چیرمین سی ڈی اے کی موثر نگرانی اور اسلام آباد انتظامیہ کے ساتھ باہمی کوآرڈینیشن اور تعاون سے سی ڈی کی اسلام آباد بھر میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے قانون کے مطابق بلا تفریق کارروائیاں جاری ہیں جوکہ اسلام آباد کو تجاوزات سے پاک کرنے، حاصل شدہ اور سرکاری اراضی کے تحفظ اور وفاقی دارالحکومت کے مختلف سیکٹرز کی ترقی میں طویل عرصے سے حائل مسائل اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے سی ڈی اے کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
دورے کے دوران چیئرمین سی ڈی اے نے جاری ترقیاتی کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور متعلقہ افسران کو واگزار کرائے گئے علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقیاتی کاموں کی رفتار میں مربوط اور مؤثر اقدامات کے ذریعے اضافہ کیا جائے اور تمام ترقیاتی سرگرمیاں منظور شدہ منصوبوں، مقررہ معیار اور مروجہ قوانین و ضوابط کے مطابق مکمل کی جائیں۔
چیئرمین سی ڈی اے نے موقع پر موجود صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور انہیں اراضی کی واگزاری اور جاری ترقیاتی سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ممبر پلاننگ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، ڈی جی ورکس (سی ڈی اے)، ایڈیشنل کمشنر (جنرل)، ایڈیشنل کمشنر (ریونیو)، متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر، سی ڈی اے اور اسلام آباد انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ افسران نے چیئرمین سی ڈی اے کو ترقیاتی کاموں، اراضی کی واگزاری اور متاثرین و الاٹیز کے دعووں کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
افسران نے مزید بتایا کہ دعووں کی جانچ پڑتال اور تمام ضروری قانونی و ضابطہ جاتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ان حقیقی اور مستحق متاثرین کو الاٹمنٹ لیٹرز جاری کر دیے گئے ہیں جن کے دعوے مروجہ قوانین و ضوابط کے تحت قابلِ قبول قرار پائے۔
حاصل شدہ اراضی کی تفصیلی موقع پر جانچ پڑتال اور جائزے کے دوران سی ڈی اے نے سرکاری حاصل شدہ اراضی پر غیر مجاز تعمیرات اور قبضے کی نشاندہی کی۔ ایسی تعمیرات، ان میں مقیم افراد اور مبینہ طور پر ان کی تعمیر اور بعد ازاں کرایہ پر دیے جانے میں ملوث افراد سے متعلق معلومات بھی سی ڈی اے کی جانب سے جمع کی گئی ہیں۔ سی ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ حاصل شدہ اور سرکاری اراضی کا تحفظ ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ غیر مجاز تعمیرات، قبضے اور حاصل شدہ سرکاری اراضی کے تجارتی استعمال میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق اور مقررہ قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
سی ڈی اے نے اس امر کا اعادہ کیا کہ حاصل شدہ اور سرکاری اراضی کو غیر مجاز تعمیرات، قبضے یا کمرشل استعمال کے لیے عمارات کو کرایہ پر دے کر ذاتی یا نجی تجارتی فائدے اٹھانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔ تاہم تمام حقیقی اور قانونی طور پر قابلِ قبول دعووں کو مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت بدستور نمٹایا جائے گا۔
750 کنال حاصل شدہ اراضی کی واگزاری سے سی ڈی اے کو واگزار کرائے گئے علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے
جو سیکٹر E-12 کی منصوبہ بندی کے مطابق ترقی میں مدد ملے گی۔
سی ڈی اے نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ حاصل شدہ اور سرکاری اراضی کو غیر مجاز قبضے اور تجارتی
استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔حقیقی اور مستحق متاثرین کے قانونی حقوق کا قانون کے مطابق تحفظ یقینی بنایا جائے گا، زیر التوا کلیمز کا قانون کے فیصلہ کیا جائے تیز کیا جائے گا، سیکٹر E-12 میں منظور شدہ منصوبوں اور مقررہ معیار کے مطابق ترقیاتی کاموں کی رفتار میں تیزی لائی جائے گی اور سیکٹر کی ترقی کے منتظر الاٹیز اور شہریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔
شہریوں اور الاٹیز نے سیکٹر E-12 سے تجاوزات کے خاتمے اور طویل عرصے سے ترقی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے سی ڈی اے کی کاوشوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حاصل شدہ اراضی کی واگزاری سے ترقیاتی سرگرمیوں میں سہولت اور تیزی آئے گی اور سیکٹر E-12 کو ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ترقی یافتہ رہائشی سیکٹر میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔
سی ڈی اے نے بھی اراضی واگزاری کے عمل کے دوران شہریوں اور حقیقی متاثرین کی جانب سے فراہم کیے جانے والے تعاون کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حقیقی عوامی مسائل کو قانونی، شفاف اور واضح طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کے لیے سی ڈی اے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا۔
*سیکٹر E-12 میں 750 کنال حاصل شدہ اراضی کی واگزاری اراضی کو اس کے مقررہ مقصد کے لیے بحال کرنے اور سیکٹر E-12، اسلام آباد کی ترقی کے لیے ضروری حالات پیدا کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ سی ڈی اے نے ترقیاتی سرگرمیوں کی رفتار برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں اور الاٹیز کی طویل عرصے سے وابستہ توقعات کو عملی جامہ پہناتے ہوئے سیکٹر E-12 کو منظور شدہ منصوبوں، مقررہ ترقیاتی معیار اور معیارات کے مطابق ایک باقاعدہ، منظم اور مکمل سہولیات سے آراستہ رہائشی سیکٹر میں تبدیل کیا جائے گا۔
